اشاعتیں

ستمبر, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پاکستان میں رواں سال شدید سردی کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے،

تصویر
پاکستان میں رواں سال شدید سردی کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے، موسم سرما معمول سے زیادہ طویل ہوگا، ریکارڈ توڑ بارشیں اور برفباری ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں آئندہ موسم سرما کے دوران سردی کی شدت اور دورانیہ کے ریکارڈز ٹوٹ جانے کا امکان ہے۔اس حوالے سے کچھ ماہرین موسمیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس مرتبہ پاکستان میں موسم سرما کا دورانیہ معمول سے زیادہ ہوگا۔جبکہ سردی کی شدت بھی بہت زیادہ ہوگی۔ موسم سرما کے دوران کراچی سے لے کر خیبر تک ہر علاقے میں موسم شدید سرد رہے گا۔ ریکارڈ توڑ بارشیں اور برفباری ہوگی۔ خاص کر ملک کے شمالی علاقوں میں معمول سے کہیں زیادہ برفباری ہونے کی توقع ہے، جس کی وجہ سے سردی کی شدت بہت زیادہ ہوگی۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستان میں سردی کی شدت گزشتہ کچھ برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہی تھی۔ دوسری جانب آج جمعرات کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔تاہم شام/رات بالائی خیبرپختونخوا، وسطی پنجاب،بالائی سندھ اور گلگت بلتستان میں چند مقا مات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔ جمعے کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔تاہم بالائی خیبرپ...

FATF

پچھلے کئی دنوں سے ہم سب میڈیا میں #FATF نامی چیز کی بازگشت سن رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف ہے کیا ؟ پاکستان کا اس کیا لینا دینا ہے ؟ اور اس موضوع پر سیاسی جماعتوں کی آپس کی کھینچا تانی کے اسباب کیا ہیں ؟ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) عالمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے سد باب کا نگران عالمی ادارہ ہے جو 1989 میں قائم ہوا اور پاکستان اس کا رکن ہے۔ اس ادارے کے زمے ہے کہ وہ حکومتوں کو ایسے اقدامات اور قوانین تجویز کرے جن پر عمل پیرا ہو کر ممالک اپنے مالی معاملات میں شفافیت لا سکیں اور منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت جیسی چیزوں کا سدباب کو سکے۔ تجویز کیئے گئے اقدامات پر ہونے والے عملدرامد کی بنیاد پر ادارہ مملک کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہے۔ بلیک لسٹ گرے لسٹ وائٹ لسٹ بلیک لسٹ ممالک پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ بینک بین الاقوامی کاروبار کے حقوق سے محروم کر دئیے جاتے ہیں۔ ائیرلاینز پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ مختصر یہ کہ ملک معاشی طور پر تنہائ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گرےلسٹ میں موجود ممالک کچھ حد تک مالی معاملات چلانے کی اجازت ہوتی ہے ...

انتہائی اہم بات

تصویر
لاہور ڈی ایچ اے پٹرول پمپ پر ایک آدمی آتا ہے اور ایک عورت کو جو اپنی گاڑی میں پٹرول ڈلوا رہی ہوتی ہے پینٹر کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ وہ خاتون انکار کر دیتی ہے لیکن تکلفانہ اس کا وزیٹنگ کارڈ لے لیتی ہے۔ وہ خاتون پھر اپنی گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے روانہ ہوتی ہے۔ تب ہی وہ دیکھتی ہے کہ وہ آدمی بھی اسی وقت وہاں سے روانہ ہوتا ہے۔ کچھ منٹ کے بعد اس خاتون کو چکر آنے لگتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ وہ گاڑی کی کھڑکی کھولتی ہے اور محسوس کرتی ہے کہ خوشبو اس کے ہاتھ سے آ رہی ہے۔ اسی ہاتھ سے جس سے اس نے وہ وزیٹنگ کارڈ پکڑا تھا۔ وہ پھر نوٹس کرتی ہے کہ اس آدمی کی گاڑی اس کے پیچھے ہے۔ اس خاتون کو محسوس ہوتا ہے کہ کچھ کرنا چاہیے۔ وہ راستے میں آنے والے پہلے پٹرول پمپ پر رک جاتی ہے اور مسلسل ہارن بجانا شروع کر دیتی ہے مدد مانگنے کے لیے۔ وہ آدمی جب یہ دیکھتا ہے تو بھاگ جاتا ہے لیکن اس خاتون کو اگلے کئی منٹوں تک سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ کافی دیر بعد اس کا سانس بحال ہوتا ہے۔ بظاہر وزیٹنگ کارڈ پر ایک دوائی لگی تھی جو سانس لینے کے ساتھ ہمارے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس دوائی کا نام bu...

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ

تصویر
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ(۴۷) ترجمہ: کنزالایمان اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے تفسیر: ‎صراط الجنان {وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے۔} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں بیان فرمائی ہیں جو ا س نے اپنی بارگاہ میں کھڑے ہونے سے ڈرنے والے متقی اور مومن بندوں کے لئے تیار فرمائی ہیں ۔ اس آیت کاایک معنی یہ ہے کہ جسے دنیا میں قیامت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حساب کی جگہ میں حساب کے لئے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے اور فرائض کی بجا آوری کرے تو ا س کے لئے آخرت میں دو جنتیں ہیں ۔( مدارک، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۱۱۹۵، خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۲۱۳، ملتقطاً) اس معنی کی تائید اس آیتِ مبارکہ سے بھی ہوتی ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰى‘‘(نازعات:۴۰،۴۱) ترجمۂکنزُا...

العوامی فلاحی پلیٹ فارم کھولیاں درویش آباد اور ہمارے مسائل

تصویر
العوامی فلاحی پلیٹ فارم کھولیاں درویش آباد کے نوجوانوں کی طرف سے آئندہ نسلوں کی سدھار کی ایک کوشش ہے، جس کے ذریعے علاقے میں تعلیم، صحت،کھیلوں سمیت دیگر کئ چیزوں پر کام کیا جانا ہے، جس سے آنے والی نسل کو ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ تعلیم اور بہترین تربیت بھی میسر آ سکے۔  العوامی فلاحی پلیٹ فارم کے بانی محمدشوکت اور محمدعمرفارقی سے کچھ عرصے سے میرے اچھے تعلقات ہیں، جس کی بدولت ان کی سوچ و فکر کو بخوبی جانتا ہوں۔ اگرچہ محمدعمرفاروقی سے برائے راست ملاقات تو کم ہی ہوتی ہے مگر جب بھی ملے علاقے کے مسائل بارے ان کو فکر مند پایا۔ اور محمدشوکت صاحب سے لاتعداد بار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔ العوامی فلاحی پلیٹ فارم کا قیام بھی ایک احسن قدم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ کھولیاں کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں ایسے نوجوان ملے جو اپنے علاقے کے لوگوں اور بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔ حالت حاضرہ میں دوسروں کے لیے وقت نکالنا انتہائی مشکل ہے چونکہ ہر شخص اپنی مصروفیات اور زندگی کو سلجھانے کے چکر میں الجھا بیٹھا ہے۔ ان حالات میں بھی جو لوگ وق...

17سال گزر گے مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس انجام کو نا پہنچ سکا

تصویر
"17سال گزر گے مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس انجام کو نا پہنچ سکا 2002میں پنچائیت کے فیصلے پر 14افراد نے مختاراں مائی نامی عورت کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا مختاراں مائی نے 14افراد کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا اگست 2002میں انسداد دہشتگرڈی کی عدالت نے 14میں سے 8افراد کو بری کردیا اور 6افرد کو سزائے موت سنادی 2005میں ہائی کورٹ ملتان بینچ نے اپیل پر فیصلہ کرتے ہوئے 6میں سے 5افراد کو بری کردیا اور ایک مجرم کی سزائے موت توڑ کر اسے عمر قید میں تبدیل کردیا جسکے خلاف مختاراں مائی نے سپریم کورٹ میں اپیل کی 2011میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ ملتان بینچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے مختاراں مائی کی اپیل خارج کردی دوبارہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کی درخواست دوبارہ سپریم کورٹ میں دے دی گئی جس پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا اسلامی جمہوریہ کا سب سے بڑا اجتماعی زیادتی کا سکینڈل 17سال گزر جانے کے بعد انجام کو نہیں پہنچا لیکن مختاراں مائی اس سکینڈل کے بعد شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی یورپ سے بہترین اور بہادر خاتون کا پرائز حاصل ہوا اسکے بعد ماڈلنگ کی آفرز آئی 2016میں روزینہ منیب کے تیار کردہ مل...

آجکل کی شادیاں

تصویر
اگر غور کیا جائے تو اخراجات کی اصل وجہ شادی نہیں بلکہ خواہ مخواہ کی رسومات ہیں جو ہمارے کلچر میں بری طرح اتر چکی ہیں۔ اگر ہم مایو ، مہدی ، منگنی ، جہیز اور دیگر فرسودہ رسومات سے جان چھڑا لیں اور صرف نکاح اور ولیمہ پر اکتفا کرلیں تو بڑی آسانی ہوجائے گی ۔۔۔  مہنگے زیورات ، مہنگا جہیز، مکلاوا، جوتی چھپائی، دودھ پلائی، سسرال کے جوڑے لگائی اور سب رشتے داروں کی مٹھائی اور بِد بھجائی جیسی جتنی زیادہ رسمیں ہم پال چکے ہیں اتنی ہی زیادہ ٹینشنیں، رشتے داروں کی باتیں اور ناراضگیاں بھی مول لے رہے ہیں ۔ لیکن قصوروار کون۔۔۔؟ ہماری خواہ مخواہ کی انا، ہمارا معاشرہ، ہندووانہ رسمیں اور لوگوں کی باتوں اور سوچ کا ڈر ۔۔۔ کہ "لوگ کیا سوچیں گے۔۔۔ ؟" اسی لئے اب والدین کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری اولاد بیاہنے کی ہوتی ہے اور وہ ان تین چار دنوں میں ساری عمر کی کمائی لگا دیتے ہیں۔ ایک نئی زندگی تو شروع ہوجاتی ہے لیکن پرانی زندگی کا خون چوس کر۔۔۔ شادی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے رشتے کی تلاش سے۔ رشتے کروانے والے خوب پیسے بٹورتے ہیں۔۔۔  رشتہ طے ہونے کے بعد مبارکباد کے نام پر مٹھائی کھلائی جاتی ہے اور لڑکا ،لڑکی و...

ریاست پاکستان اور تلخ حقائق

تصویر
بدقسمتی اس ملک و قوم کی کہ جہاں پر اس ملک و قوم کو کرپٹ بدمعاش ناہل حکمران ملے،اور انہوں نے ہر طرح سے اسے نقصان پہنچایا ٹھیک اسی طرح کچھ مذہبی عناصر بھی اس میں شامل رہے،،اگرچہ مذہبی پارٹیوں کا طریقہ واردات مختلف رہا۔ اور ان مذہبی پارٹیوں جماعتوں اور گروہوں کے اوپر دست شفقت رکھنے والے بھی ہمارے ماضی کے سیاسی لیڈر  رہے ہیں، جس کی وجہ سے آج ہر محلے ہر گلی سے فرقہ پرستی کی بو آ رہی ہے، بجاۓ اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے حکمرانوں اور لیڈروں نے پاور کا ناجائز استعمال کرتے ہوۓ اس آگ پر تیل چھڑکنے کی کوشش کی۔ جس کی تازہ مثال یکم محرم الحرام کو سندھ حکومت کی طرف سے اہلسنت والجماعت کے جلوسوں پر پابندی سے واضح ہے،، یاد رہے میں نے سندھ حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند کہا تھا، اور مطالبہ کیا تھا کہ ہر صوبہ اور وفاق کو بھی چاہیے کہ سڑکوں پر ہونے والے تمام جلوسوں کو ان کی عبادت گاہوں تک محدود رہنے پر پابند کیا جاۓ،،جس کے بدلے ایک مفتی صاحب نےمجھے بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔ پاکستان میں آج تک جو بھی لیڈر آیا ہے، اس نے قومی سطح پر اپنے مسلکی لوگوں پر نوازش کرتے ہوۓ مخالفین مسالک کے خلاف پس پردہ کام کیا ہے،،...

کھولیاں درویش آباد کا تعارف اور کچھ معروف شخصیات کا تذکرہ

تصویر
کھولیاں درویش آباد کا تعارف اور کچھ معروف شخصیات کا تذکرہ جنہوں نے اپنے علاقے میں مثالی خدمات پیش کی اس تحریر کو سیاسی مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائ غیر جانبداری سے لکھا گیا ہے۔ باوجود اس کے اگر کوئی الفاظ یا جملہ آپ کو ناپسندیدہ لگے تو اس کے لیے ایڈوانس معذرت۔ کھولیاں درویش آباد  سطح سمندر  سے اوسط بلندی 971میٹر3188فٹ پر پاکستان کےصوبہ خیبرپختونخواہ کےضلع مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ کےیونین کونسل گھنول کا اک خوبصورت گاؤں ہے،کھولیاں درویش آباد کو کھولہ بھی کہا جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ درویش آباد کا اضافہ وہاں پر مدفون اک بزرگ کی نسبت سے ہے، بزرگ اللہ والے تھےاور ان کو درویش  باجی کے نام سےپکارا جاتا تھا، آج اسی بنا پر اس علاقے کو کھولیاں درویش آباد کہا جاتا ہے، کھولیاں درویش آباد میں کئی محلے ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں پولی والا یہ مرکز ہے اس علاقے کا اس کے علاوہ اپرکھولہ،چیٹرآلہ، ڈھیری زمان،چٹھہ، بیدہ،جموں نکہ، گدی، مانگپائ، باڑی،سیل، نلہ نکہ، کھیت، بٹہ، کلانگہ شامل ہیں کھولیاں درویش آباد میں سے کاغان ناران کو جانے والی مین شاہراہ گزر کر جاتی ہے، بظاہر یہ اک پہاڑی علاقہ ہے...

سُست موبائل فونز کو کیسے بہتر کریں؟

تصویر
فون کی سست رفتاری کی ایک وجہ بہت زیادہ ایپس اور میمری کا کم ہونا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی بہت زیادہ سُننے کو ملتا ہے کہ دو سال ہی ہوئے فون خریدے ہوئے اور موبائل فون ہینگ  ہونا شُروع ہو گیا، ایپس لوڈ ہونے میں وقت لیتی ہیں یا لوڈ ہی نہیں ہوتیں اور پھر موبائل بالکل ہی ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اور حیرت کی بات کہ صرف کم قیمت موبائل کے مالکان  ہی نہیں وہ لوگ بھی جو لاکھوں روپے خرچ کر کے موبائل خریدتے ہیں کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہی شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ موبائل کےساتھ ایسا کیا ہوتا ہے کہ وہ اتنی جلدی پرانا اور سُست رفتار ہو جاتا ہے اور ہم اِس میں بہتری کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ موبائل کے سُست رفتار ہو جانے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ بہت زیادہ ایپس کا ہونا،میمری کا کم ہونا،اپ ڈیٹڈ اوپرٹنگ سِسٹم کا آپ کے فون کے ہارڈ ویئر سے مِس میچ ہونا، لائیو وال پیپرز، بیک گراؤنڈ میں چلنے والی ایپس، بہت سی ایسی ایپس جو بظاہر بہتری مگر حقیقت میں خرابی کر رہی ہوتی ہیں جیسے کہ اینڈرائیڈ ٹاسک کلر اور دوسرے پر فارمنس آپٹیمائزرز۔ فون خریدتے وقت اِس میں بہت ہی تھوڑی بِلٹ اِن ایپس ہوتی ہیں اور ظاہر ہے ہماری فوٹوز ا...

بچپن کا وہ ڈرپوک سفر اور رات کی تاریکی میں پانی کے چشمے پر جنات کا ڈر

تصویر
بچپن کا وہ ڈرپوک سفر اور رات کی تاریکی میں پانی کے چشمے پر جنات کا ڈر گاؤں میں ہمارے گھر سے مارکیٹ تقریباً 20یا25منٹ کی پیدل مسافت کے فاصلے پر ہے۔ اور اگر کوئ بچہ یا بزرگ یہ سفر طے کرے تو لگ بھگ پونا گھنٹہ یا پورا گھنٹہ بھی لگ سکتا ہے،، یہ بات تب کی ہے جب ہمارا شمار بھی بچوں میں ہوتا تھا، گھر سے کسی چیز کے لیے دکان بھیجا جاتا تو اکثر ہم دو بھائیوں کو بھیجا جاتا دوسرا جو مجھ سے بڑا ہے مگر ہم دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھا کرتے تھے، سکول جاتے اور واپس بھی ساتھ جاتے جمعے کی نماز کے لیے بھی اکثر ساتھ ہی جاتے۔ جب ہم دونوں ایک ساتھ دکان پر جاتے تو چند قدم چلنے کے بعد رک رک کر باتیں کرتے اور وقت زیادہ گزر جانے پر کسی کسی جگہ سے دوڑ بھی لگا دیتے۔   مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ دوسرا بھائ موقع پر موجود نہ ہوتا تو مجھے اکیلے ہی جانا پڑتا، راستے میں آبادی کے درمیان کئ جگہ درختوں کا جھرمٹ بیابان جگہ پانی کی بہتی نہر جسے مقامی زبان میں( کس)کہتے ہیں،سے گزرتے بہت ڈر بھی لگتا، ان دنوں لوگ کتے بھی رکھتے تھے وہ ڈر بھی ذہن میں سوار رہتا، گھروں سے دور کسی جگہ ہوا سے بھی کسی درخت کا پتا ہل جاتا تو تراہ نکل ...

غصے پر قابو اور گھر میں تناؤ کم کرنے میں مددگار ٹپس

تصویر
8 سالہ عابد یوں تو کافی اچھا اور ہوشیار بچہ تھا لیکن اپنی چھوٹی بہنوں اور دیگر بچوں کے ساتھ مسلسل ترش رویہ رکھتا تھا جیسے بدتمیزی، لڑنا جھگڑنا اور کبھی غصے میں کھیلنے سے منع کر دینا۔ اتنے چھوٹے سے بچے میں غصے کی یہ نوعیت کافی عجیب سی محسوس ہوئی تو اس حوالے سے تھوڑی سی تفتیش کے بعد پتا چلا کہ عابد کے ماں اور باپ دونوں ہی غصے کے بہت تیز ہیں ۔ ذرا ذرا سی بات پر دونوں کے گفتگو کا انداز اور رویہ طیش بھرا ہو جاتا، پھر میاں و بیوی کے آپسی مسائل میں بھی غیظ و غضب کا معاملہ غالب رہتا اور کبھی کبھی غصہ اتارنے کے لیے عابد ان دونوں کا آسان ہدف ثابت ہوتا۔ یوں غصیلے رویے کو برداشت کرتے اور مشاہدہ کرتے کرتے عابد غیر محسوس انداز میں جارحانہ مزاج میں ڈھلتا گیا اور اس کے اثرات عام زندگی میں شدت سے نظر آنے لگے۔ گھر کے ماحول اور کلیدی افراد میں غصے کی لہریں جتنی زیادہ ہوتی ہیں، بچوں کی سوچ اور عمل بھی اسی تناسب سے سانچے میں ڈھلتا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہم سب ہی کبھی نہ کبھی غصے کا شکار ہو جاتے ہیں، ۔کبھی ٹریفک میں پھنسنے پر، کبھی دفتر میں ترقی نہ ملنے پر، کبھی کام مقررہ وقت پر نہ ہونے پر یا پھر بچوں کے شور ...