اشاعتیں

سرکاری افسر چور نکلا پاکستان کی ناک کٹوا دی

تصویر
پہلے وزیراعظم چور، اب افسران چور۔۔۔۔ اثرات اوپر سے نیچے تک۔۔۔۔ پاکستان کے چہرے پر کالک  کویت کے اعلی سطح وفد کا آج دورہ پاکستان ، اقتصادی امور ڈویژن میں اجلاس کے دوران کویتی وفد کا قیمتی بیگ اور دیناروں سے بھرا بٹوہ غائب کردیا گیا، تمام ملازمین ، کمروں اور افسران کی الماریوں  کی تلاشی ، زرائع  بڑے افسران کی چھوٹے ملازمین پر شکوک و شہبات، جس کے بعد سی سی ٹی وی کی فوٹیج نے 20 گریڈ کے چور ضرار حیدر کو بے نقاب کر دیا  اقتصادی امور ڈویژن کے گریڈ 20کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو گروپ کےآفیسر  چور نکلے۔ کویت سے آنیوالے مہمان کا قیمتی بیگ اور دیناروں سے بھرا بٹوہ برآمد کروالیا گیا ۔ وزارت کا اپنے آفیسر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے پر غور، کویتی وفد سے بھرپور معذرت، وفد ناراض ہوکر واپس چلا گیا ،   وفاقی وزیر کے احکامات کے بعدچورآفیسر کے خلاف درخواست سیکریٹریٹ تھانہ میں دی جائے گی ۔ ابتدائ صفحہ پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں پوسٹ کے بارے میں اپنی راۓ کا اظہار کریں اور اگر پسند آۓ تو فیس بک، ٹویٹر،واٹس ایپ، گوگل پر شیئر کریں، پوسٹ کا لنک کاپی کر کے اپنے تمام سوشل اکاؤنٹس پر ڈا...

متعہ کیا ہے؟ اور پاکستان میں فحاشی کے اڈوں کا متعہ سے کیا لنک ہے

تصویر
جنرل ضیاالحق نے 1980 میں معاشرتی اصلاحات کا پروگرام بنایا  ٹی وی TV ریڈیو اور اخبارات کےعلاوہ تفریحی پروگرامات میں عریاں و فحش قسم کے اخلاق باختہ  مواد پر پابندی لگادی اس وقت خواتین سر پر دوپٹہ ڈھانپ کر خبریں پڑھاکرتی تھیں ڈرامے مشرقی اقدار کے مطابق ھوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنرل ضیاالحق نےیوم  میلادلنبی ؐ عالمی سیرت ﷺ کانفرنس کے موقع پر پاکستان میں جسم فروشی کے خلاف اقدام  کرتے ھوے ملک بھرمیں  بازار حسن ھیرامنڈیوں اور طوایف خانوں اور چکلوں پر پابندی کااعلان کردیا ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شام جنرل ضیاالحق بہت خوش تھے کہ  اچانک  اعلی افسر  نے فوری ملاقات کی درخواست کی جنرل ضیاالحق نے انہیں مغرب کے بعد  بلالیا ۔ ۔۔۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے ساتھ آنے والے اس افسر نے بتایاکہ کہ Sir  سر ۔ آپ کے اعلانات  سے شدید فرقہ وارانہ بےچینی پھیل گی ھے اور ایک خاص فرقے کا  سخت ردعمل آرھاھے  ضیاالحق نے  حیرت زدہ ھوکر پوچھا بازار حسن تو جسم فروشی کے اڈے ھیں ان کی بندش کے اعلان  پر کون سا فرقہ  پریشان ھے ۔  افسر نے وزارت داخلہ ک...

نِکاح اور اس کے بنیادی مسائل

تصویر
اسلام دراصل اللہ کی مکمل اطاعت کا نام ہے۔ اسلامی شرعیت کا مقصد انسان کی فلاح وبہبود ہے۔ وہ زندگی کے تمام امور ومسائل میں رہنمائی کرکے انسان کو شریعت اسلامی کا پابند بنانا چاہتی ہے۔ زیر نظر مضمون میں شادی بیاہ کے مسائل پر روشنی ڈالی جارہی ہے تاکہ غیراسلامی اور جاہلانہ رسوم ورواج سے بچا جاسکے۔ شادی بیاہ میں رشتہ کا انتخاب بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں شریعت کی کیا رہنمائی ہے؟ رشتوں کا معیار * نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:”عورتوں سے چار باتوں کے پیش نظر نکاح کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مال کے پیش نظر، اس کے حسب (خاندان) کے باعث، اس کے حسن کی خاطر اور دینداری کے باعث۔ تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں (یہ جملہ کبھی تعجب اور کبھی تنبیہ وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے) تجھے تو دین دار عورت حاصل کرنا چاہئے“(بخاری) دوسری جگہ ارشاد ہے: * تم ان سے دین کی بنیادپر شادی کرو۔ کیونکہ ایک کالی کلوٹی کم عقل والی لونڈی بھی اگر دین دار ہو تو وہ دوسری عورتوں سے افضل ہے۔ (حدیث) مزید ایک جگہ فرمایا: *”دنیا کی حیثیت ایک متاع ہے اور متاع دنیا میں بہترین چیز نیک عورت ہے۔“(بہ روایت عبداللہ بن عمررضى الله تعالى ...

شاہ اسماعیل شہیدرحمۃ اللّٰہ علیہ

تصویر
پورا نام : شاہ محمد اسماعیل والد کا نام : شاہ عبدالغنی مقام پیدائش : دھلی تاریخ پیدائش : 12۔ ربیع الاوّل 1193ھ مطابق 26۔اپریل 1779ء آپ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے پوتے تھے گویا اس خاندان سے تعلق تھا جو علم و فضل کا سرچشمہ تھا۔ چنانچہ تعلیم کی ابتداء گھر سے ہی ہوئی۔ آٹھ سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کرلیا تھا ۔ دس برس کی عمر میں باپ کا سایہ سر سےاُٹھ گیا تو فاضل اور بزرگ چچا شاہ عبدالقادر دہلوی نے آغوش محبت میں لے لیا۔ انہی سے دینی علوم حاصل کیے۔ 15۔16 سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوگئے۔ ابتداء سے انتہائی ذہین ،زودفہم اور سلیم الطبع تھے۔ ان کی ذہانت کی دھوم تھی ۔ آپ کو تاریخ او رجغرافیہ کےعلوم سے خصوصی دلچسپی تھی۔ شاہ صاحب کو فنون جنگ سےبھی بہت لگاؤ تھا۔ گھوڑے کی سواری کی بہت مشق پیدا کی تھی بنوٹ، پٹے بازی ، تیراکی جواس وقت بھی علماء کے درجے سے کم تر کام سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے محنت اور ذوق و شوق سے سیکھے۔ گوالی چلانے کی اتنی استعداد پیدا کی کہ چھوٹے چھوٹے پرندوں تک کوگولی سے گرا لیاکرتے تھے جھلسی دھوپ اور کڑکتے جاڑوں کی برداشت کی قوت پیہم مشق سے فراہم کی۔ عمر او رعلم کی پختگی کے ساتھ ہی ...

کیا عورت حیض کے دنوں میں قرآن پاک کو چھوئے بغیر تلاوت کر سکتی ہے؟ باقی وظائف وغیرہ بھی پڑھ سکتی؟۔

تصویر
جنبی (جس پر غسل فرض ہو) مرد و عورت، اسی  طرح حیض اور نفاس والی عورتوں کے لیے قرآن مجید کو براہ راست چھونا، تلاوت کی نیت سے زبانی یا دیکھ کر پڑھنا ممنوع ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا تَقْرَاَ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.  حائضہ اور جنبی قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھیں۔ ترمذي، السنن، 1: 236، رقم: 131، دار احیاء التراث العربي، بیروت ایامِ حیض میں خواتین کے لیے ممنوعہ امور کی وضاحت علامہ محمد بن علی حصفکی رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں کی ہے: حيض يمنع صلاة و صوما و تقضيه و دخول مسجد و الطواف و قربان ما تحت اِزار و قرأة قرآن و مسه الا بغلافه. و کذا ولا بأس بقرأة أدعية و مسها و حملها و ذکر الله تعالٰی، و تسبيح و أکل و شرب بعد مضمضة و غسل يد. ولا يکره مس قرآن بکم. دورانِ حیض نماز، روزہ، روزہ کی قضاء، مسجد میں داخل ہونا، طواف کعبہ، جنسی قربت، تلاوتِ قرآن اور غلاف کے بغیر قرآنِ مجید کو چھونا ممنوع ہے۔ البتہ کلی کرنے اور ہاتھ دھونے کے بعد دعائیں پڑھنے، انہیں چھونے، ان کو اٹھانے، اللہ کا ذکر کرنے، ...

قوم لوط کے تین گناہ

تصویر
حضرت لوط علیہ سلام کی قوم انتہائی قبیح اور مذموم فعل میں مبتلا تھی- یعنی "ہم جنس پرست" تھے -حضرت لوط علیہ سلام کے مسلسل سمجھانے بجھانے پر بھی یہ قوم ٹس سے مس نہ ہوئی اور آخر الله کی ازلی سنّت کے مطابق عذاب کا شکار ہوگئی - لیکن قرآن سے ایک چیز یہ بھی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم ہم جنس پرستی جیسے قبیح فعل کے علاوہ دو مزید قبیح حرکتوں میں مبتلا تھی۔ اس میں ایک مسافروں کا راستہ روکنا اور دوسرے اپنی محفلوں میں سرعام فحش گفتگو کرنا تھا۔ جیسا کہ قرآن میں الله فرماتا ہے: "کیا تم مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور راستے روکتے ہو اور اپنی محفلوں میں برے کام )فحش گوئی ( کرتے ہو -تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔" سوره العنکبوت ٢٩ اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم جنس پرستی تو ہم مسلمانوں میں اتنا عام نہیں ہے اور الله سے دعا ہے کہ آئندہ بھی نہ عام ہو، لیکن باقی دو مذموم افعال یعنی راستہ روکنا اور محفلوں میں فحش گوئی اتنی عام ہے کہ اب تو اس کو سرے سے گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بیوروکریٹ نے گزرنا ہو، کوئی سیاسی ج...

صفات ایمان

تصویر
صفاتِ ایمان ١. اللّٰہ تعالٰی پر ایمان لانا  اللّٰہ یہ اس ذات کا اسم ذات ہے جو واجب الوجود ہے۔ یعنی جو خودبخود ہر وقت ہر جگہ موجود ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اس کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا اور اُس کا عدم یعنی کسی وقت کسی جگہ نہ ہونا محال ہے، اللّٰہ تعالٰی کے سوا اور کوئی چیز واجب الوجوب نہیں، اس اسمِ ذاتی کے علاوہ اُس ذات کے بہت سے صفاتی نام ہیں مثلاً خالق،  رازق،  حی و قیوم وغیرہ جو لاتعداد ہیں۔ ایک حدیث شریف میں ننانوے یعنی ایک کم سو نام آئے ہیں اور بعض دوسری احادیث میں ان کے علاوہ اور نام بھی آ ئے ہیں۔ قرآن و حدیث میں آئے ہوئے ناموں کے علاوہ اپنے بنائے ہوئے عقلی و عرفی ناموں سے اللّٰہ کو پکارنا ہرگز جائز نہیں ہے۔ چاہے وہ صحیح ناموں کے مطابق ہوں۔ مثلاً اللّٰہ تعالٰی کو عالم کہیں گے،  لیکن عاقل کہنا جائز نہیں،  اللّٰہ تعالٰی کے اسمائ و صفات اللّٰہ تعالٰی کی ذات مقدس سے اس طرح پر متعلق ہیں کہ نہ عینِ ذات ہیں اور نہ غیر ذات،  اسی لئے اللّٰہ تعالٰی کی صفات یعنی علم و قدرت وغیرہ کو اللّٰہ نہیں کہہ سکتےاور نہ اس کا غیر ہی کہہ سکتے ہیں،  اللّٰہ تعالٰ...