( ایک سنجیدہ تحریر, سنجیدہ افراد کے لئے) محمد اسماعیل یوسُف. پہلی قسط. میری اس تحریر کا مقصد نہ تو کسی سے ستائش کی چاہ ہے, نہ کسی پر ذاتی تنقید, کسی کو اچھا لگے یابرا, کسی کی پرواہ نہیں. ہاں غلط اور خلاف حقیقت بات کی نشاندہی کرنے والے کے شکریہ کے ساتھ علی الاعلان معافی مانگ کر رجوع کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کروں گا. اس عنوان پر تحریر کا سبب ہے چند روز قبل جمیعت علماء اسلام ف کے زیر اہتمام کوئٹہ میں منعقد ہونے والے علماء کنوشن میں قائد جمیعت مولیٰنا فضل الرحمن صاحب کے ولولہ انگیز بیان کا ایک اقتباس. (اگرچہ بہت سے احباب نے وہ ویڈیو شیئر کردی ہے مگر پھر بھی تسلی کے لئے پہلے کمنٹ میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں ) میں اپنی تحریر میں تلخ الفاظ پر مجبور ہوں مگر میرے الفاظ کی تلخی مولیٰنا کی "ابکائیوں" کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں. مولیٰنا کو اپنی شکست کا بے حد غم ہے, اور اپنی شکست ان سے ابتک ہضم نہیں ہورہی. الیکشن سے قبل "چوں چاں " بند کرکے گھروں میں بیٹھ جانے کا مشورہ دیا اور "فرقہ پرستوں " کو اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا....
محبت کی تعریف: اچھی بات تو سب کو اچھی لگتی ہے، لیکن جب تمہیں کسی کی بری بات بھی بری نہ لگے تو سمجھو تمہیں اس سے محبت ہے۔ راحت و سرور ہو یا رنج و غم،نفع ہو یا نقصان، ہر حال میں اپنی خواہش کو ختم کر کے محبوب کی خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کا نام محبت ہے۔ محبت میں انسان کو کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے. بلکہ ظاہر و باطن سب کچھ بدل جاتا ہے۔ زندگی نثر سے نکل سے شعر میں داخل ہو جاتی ہے۔ اور محبوب میں کوئی خامی نظر نہیں آتی، اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی، محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی۔ پیار و محبت کیا ہے؟ محبت اور پیار ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، کسی چیز کو اچھا اور مفید سمجھ کر اس کا ارادہ کرنا اور اسے چاہنا محبت ہے۔محبت کا لفظ حب سے نکلا ہے جس کے معنی پیار و محبت ہیں۔ محبت کرنے والے کو محب کہا جاتا ہے جس سے محبت کی جائے اسے محبوب کہتے ہیں۔ محبت سب سے لطیف اور پاکیزہ جذبہ ہے۔ یہ ایک جذباتی لگاؤ کا نام ہے۔ جس میں آپ کی ساری دنیا آپ کا محبوب ہوتا ہے۔ جو آپ کی پہلی ترجیح بن جاتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ محبت کا جذبہ کرہ ارض کی ہر ذی روح مخلوق میں موجود ہے۔جبکہ طبی ماہرین کا کہن...
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لینے کے مسئلے پر امت دو حصوں میں بٹ گئی تھی ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہ کی جماعت کا یہ موقف تھا کہ ہم علی رضی اللہ عنہ کی بیعت اس وقت کر یں گے جب تک عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق کا قصاص لیا جائے گا ، جب کہ علی رضی اللہ عنہ کا مطالبہ تھا کہ یہ لوگ بیعت کرلیں پھر بعد میں جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو قصاص لے لیا جائے گا۔معاویہ رضی اللہ عنہ اور انکے ساتھیوں کا موقف یہ تھا کہ چونکہ قاتلین عثمان ہی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلافت قبول کرنے پر مجبور کرکے سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور ملک کے انتظام و تدبیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تمام فیصلوں میں وہ پوری طرح دخیل ہیں اسی لئے حضرت علی رضی اللہ نہ خون عثمان کا قصاص لے پارہے ہیں اور نہ ہی اس صورتحال کے برقرار رہتے ہوئے وہ قصاص لے سکیں گے ، لہذا فتنہ کے سدباب کی بس یہی صورت ہے کہ یا تو وہ خود قصاص لیکر ان قاتل سبائیوں سے اپنی گلو خلاصی...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں