ذلزلہ 8اکتوبر2005
آٹھ تاریخ تھی اکتوبر کی
اور سن دو ہزار پانچ کا تھا
تھا بدلتے ہوئے موسم کا سرور
دھوپ کا اجلا بدن کانچ کا تھا
تھا گماں برف کا کہساروں پر
گو کہ صحرا میں شبہ آنچ کا تھا
عام سی صبح تھی صبحوں جیسی
جیسی ہوتی ہیں یہ اکتوبر میں
سال بھر جاگتی رہتی ہیں مگر
اک ذرا سوتی ہیں اکتوبر میں
اور اب سال کی ساری صبحیں
بیٹھ کر روتی ہیں اکتوبر میں
جب زمیں جھرجھری لے کر جاگی
کوہساروں نے بدن جھاڑ دئیے
زلزلاتی ہوئی اٹھی اک لہر
دھوپ میں ڈول گئی کشتی
عذابِ الہٰی اسے مت کہو تم
گھڑی آزمائش کی ہے میرے لوگو
خدا کی عنایات ہیں ہم پہ لاکھوں
مگر آزمائش ہے قانونِ قدرت
دلایا گیا ہم کو احساسِ لغزش
عذابِ الہٰی اسے مت کہو تم
وہ بچوں کی چیخیں ، بزرگوں کی آہیں
گناہوں کا احساس پیدا کریں گی
خدا سے دعائیں سبھی لوگ مانگیں
گھڑی آزمائش کی یوں ختم ہو گی
فرشتے وہ رحمت کے پھر بھیج دے گا
وہ غفّار بھی ہے وہ ستّار بھی ہے
صفحہ اول پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں