( ایک سنجیدہ تحریر, سنجیدہ افراد کے لئے) محمد اسماعیل یوسُف. پہلی قسط. میری اس تحریر کا مقصد نہ تو کسی سے ستائش کی چاہ ہے, نہ کسی پر ذاتی تنقید, کسی کو اچھا لگے یابرا, کسی کی پرواہ نہیں. ہاں غلط اور خلاف حقیقت بات کی نشاندہی کرنے والے کے شکریہ کے ساتھ علی الاعلان معافی مانگ کر رجوع کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کروں گا. اس عنوان پر تحریر کا سبب ہے چند روز قبل جمیعت علماء اسلام ف کے زیر اہتمام کوئٹہ میں منعقد ہونے والے علماء کنوشن میں قائد جمیعت مولیٰنا فضل الرحمن صاحب کے ولولہ انگیز بیان کا ایک اقتباس. (اگرچہ بہت سے احباب نے وہ ویڈیو شیئر کردی ہے مگر پھر بھی تسلی کے لئے پہلے کمنٹ میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں ) میں اپنی تحریر میں تلخ الفاظ پر مجبور ہوں مگر میرے الفاظ کی تلخی مولیٰنا کی "ابکائیوں" کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں. مولیٰنا کو اپنی شکست کا بے حد غم ہے, اور اپنی شکست ان سے ابتک ہضم نہیں ہورہی. الیکشن سے قبل "چوں چاں " بند کرکے گھروں میں بیٹھ جانے کا مشورہ دیا اور "فرقہ پرستوں " کو اپنی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا....
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں